عوام کو روٹی کپڑا اور مکان کی فکر ہے،اپوزیشن ہمارے ساتھ بیٹھے اور احتجاج کے بجائے تجاویز دے:بلاول بھٹو

news-details

اسلام آباد: (منگل: 25 جون 2024ء)   چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اپوزیشن عوامی مفاد میں ہمارے ساتھ بیٹھے اور احتجاج کے بجائے اپنی تجاویز دے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہوا، جس میں بجٹ پر بحث کی گئی۔ چیئرمین پی پی اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو آج فکر نہیں کہ کون جیل میں تھا کون ہے کون جیل جائے گا ، عوام کو فکر روٹی کپڑااور مکان کی ہے۔ عوام ہم سے اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں ۔ میثاق جمہوریت کے بغیر عوام کی امید پوری نہیں کی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن مل کر عوام کے مفاد کے لیے کسی نتیجے پر پہنچیں ۔ جب ہم نے وزیر اعظم شہبازشریف کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ، ہمارا حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا تھا ، تاہم ہمیں پی ایس ڈی پی اور بجٹ پر اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔ صرف ہم سے ہی نہیں دیگر اتحادیوں اور اپوزیشن کو بھی اعتماد لیا جانا چاہیے تھا۔ اگر وزیر اعظم سب کی رائے لیتے تو پاکستان کی سیاسی و معاشی جیت ہوتی۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ ہمارے ساتھ بیٹھیں ۔ اپوزیشن احتجاج کے بجائے اپنی تجاویز دے ۔ پاکستان کے معاشی حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔ دعا گو ہیں کہ وزیر اعظم پاکستان کو مشکل سے نکالنے میں کامیاب ہوں ۔ 5 سال پہلے 35 ہزار روپے میں ایک گھر کا گزر بسر ہو جاتا تھا ۔ مہنگائی میں کچھ کمی آرہی ہے امید ہے عوام اس کمی کو محسوس کریں گے ۔ اگر حکومت مہنگائی کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈ میں 27 فیصد اضافہ ہوا ۔ باجوہ ڈاکٹرائن سے اٹھارویں ترمیم اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو خطرہ تھا ۔ ہمیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو آئینی تحفظ دینا تھا تاکہ کوئی سازش کامیاب نہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ سے مثبت چیزیں نکالنا میرے لیے مشکل تھا ۔ ہم کہتے ہیں ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنا ہے ۔ ہم کہتے ہیں مافیاز کو پکڑیں گے لیکن ابھی تک ناکام ہیں۔ ہمارا فلسفہ ہے کہ اگر ٹیکس نیٹ کو بڑھانا ہے تو بڑے لوگوں اور کمپنیوں پر ڈائریکٹ ٹیکس لگانا ہے۔ ہم سندھ میں ٹیکس کلیکشن اور ٹیکس نیٹ بہتر کررہے ہیں۔ ہم بزنس کمیونٹی کو ڈرانے کی کوشش نہیں کرتے ۔ ہم نیب ایف آئی اے کو استعمال نہیں کرتے ، یہ اسٹریٹیجی کامیاب ہوئی ہے ۔ وفاقی حکومت یہ کرے کہ صوبے کو سیلز ٹیکس جمع کرنے کا اختیار دے ۔ صوبے سیلز ٹیکس اکٹھا کریں گے تو آپ کے اکاؤنٹ میں جائے گا ۔ آپ تجرباتی طور پر اس پر 2 سال کام کریں ۔ اگر کامیابی ہوتی ہے تو اچھی بات ہے نہیں تو فیصلہ واپس لے لیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کھاد کی سبسٹسدی فیکٹریوں کے بجائے کسانوں کو دی جانی چاہیے۔ سبسٹسدی لینے والی دیگر بڑی لابیوں کے خلاف ہم حکومت کا ساتھ دینے کو تیار ہیں ۔ ہماری حکومت نے کسانوں پر سرمایہ کاری کی ۔ ایک سال میں کسانوں نے گندم اور چاول پیدا کرکے خوراک میں خود کفالت حاصل کرلی ۔ ذہن میں رہنا چاہیے کہ کسان معیشت کی ریڑھ کی ہے۔ ہم کسانوں کو براہ راست مدد کرکے خوراک میں خود کفیل ہوسکتے ہیں ۔ نگراں حکومت کے فیصلے سے کسانوں کو نقصان ہوا بھی ہے اور ہوگا بھی۔

چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ اگر ہم تیاری کریں گے تو دنیا سے بھی توقع رکھ سکیں گے۔ بڑوں سے توقع رکھتے ہیں کہ موسمی تبدیلی کو سامنے رکھیں۔ سارے صوبے مل کر فیصلہ کرلیں کہ غریبوں کو مفت سولر پینل دیں ۔ متوسط طبقے کو سبسڈائزڈ سولر پینل دیں ۔ لوڈ شیڈنگ تمام صوبوں اور لوگوں کا مسئلہ ہے ۔ اگر وفاقی حکومت تیار ہے مل کر اس منصوبے پر کام کریں ۔ واپڈا نے ہمیں مایوس کیا ہے کسی کی امیدوں پر پورا نہیں اترا۔ انرجی کے معاملات وزیراعظم کی ذاتی دلچسپی درکار ہوگی ۔ ہمیں صرف اپنی ڈومیسٹک انرجی کی طرف جانا ہوگا ۔ جہاں سے گیس نکلتا ہے پہلا حق ان کا ہے اس پر حکومت کی تعریف کرنا چاہتا ہوں ۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیر خزانہ کا شکرگزار ہوں۔ انہوں نے سندھ حکومت کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کی تعریف کی ۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو 2018 میں بریک لگی ۔ بریک اس لیے لگی کہ نیب اور پاکستانی معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔ ہمارا تو منشور ہے کہ نیب کو ختم کریں ۔ ہمیں اپنی سیاست آگے بڑھانے کے لیے کسی کو جیل بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس پر عمل ہوتا ہے تو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ آگے جائے گا۔ اگر کسی قومی مفاد پر آپ عمل نہیں کروا سکتے تو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کو نیب سے استثنا دیں ۔ اس کے لیے ہمیں قانون سازی کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف تگڑا قدم اٹھایا ہے ۔ حکومت ہم سے تو مشکل فیصلوں پر مشاورت کرہی رہی ہے، اپوزیشن سمیت اسٹیک ہولڈرز سے بھی مشاورت ہونی چاہیے۔ دودھ پر ٹیکس کوئی سیاستدان نہیں لگا سکتا۔ دل کے اسٹنٹس پر بھی 18 فیصد جی ایس ٹی لگایا جارہا ہے ۔ احمقانہ ٹیکسز واپس لیے جائیں ہم آپ سے مشاورت بھی کریں گے اور آپ کا ساتھ بھی دیں گے۔